6 جنوری 2015 - 20:17
تیل کی عالمی منڈیوں میں بدستور بحران

تیل کی عالمی منڈیاں بدستور بحران کا شکار ہیں۔ تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق تیل کی قیمتیں مسلسل گرتی جارہی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گذشتہ پانچ برسوں میں پہلی مرتبہ پچاس ڈالر سے نیچے آگئيں اور ہر بیرل خام تیل انچاس ڈالر اور پچانوے سینٹ میں فروخت کیا گيا۔ مئي دوہزار نو سے یہ پہلی بار ہے کہ تیل کی قیمت پچاس ڈالر فی بیرل سے نیچے پہنچي ہے۔ جیسا کہ تیل کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے اگر اسے مان لیا جائے تو تیل کی گرتی ہوئي قیمتوں کو روکنے کے لئے تیل کی پیداوار میں کمی لانی چاہیے  لیکن سعودی عرب کا یہ اصرار کہ اوپیک کے تیل کی پیداوار روزآنہ تیس ملین ڈالر رہے مکمل طرح سے یہ سیاسی فیصلہ ہے جس کے سیاسی اھداف ہیں۔ ادھر تیل منڈیوں میں امریکہ کے اقدامات اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے بارے میں واشنگٹن کے تجزیے بھی قابل غور ہیں۔ گذشتہ روز امریکی وزارت انرجی نے ایک رپورٹ شایع کی ہے جس میں کہا گيا ہےکہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود رواں برس میں بھی شیل آئيل کی پیداوار جاری رہے گي۔ اسی طرح سعودی عرب کے وزیر پٹرولیم نے بھی کہا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی لانے کی مخالفت اس وجہ سے کی ہے کہ مہنگے تیل کی پیداوار روکی جائے لیکن ان کی اس بات سے امریکہ میں شیل آئيل کی پیداوار پر کوئي اثر نہیں پڑا ہے اور امریکہ میں شیل آئيل کی مانگ میں بدستور جاری ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ تیل کی زیادہ پیداوار ہی تیل کی قیمتوں میں گرنے کی بینادی وجہ ہے لیکن سعودی عرب جو اوپیک  تنظیم میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے وہ اپنی تیل کی پیداوار میں کمی لانے کا کوئي ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ تیل کی منڈیوں پر ایسا نفسیاتی ماحول طاری ہے کہ ہر خبر اور واقعہ ممکنہ طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ سعودی عرب میں اقتدار کی جنگ اور ایران و روس کے خلاف تیل کی جنگ کی سازش ان مسائل میں سے ہیں جو تیل کی قیمتوں میں کمی کے جملہ اسباب ہیں جس سے حالات مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تیل کی قیمتیں کس حد تک کم ہوسکتی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر تیل کا کہنا ہے کہ آئندہ مہینوں میں تیل کی قیمت ستر سے نوے ڈالر فی بیرل رہے گي۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت تیل کی ویب سائٹ کے مطابق بیژن نامدار زنگنہ کا کہنا ہے کہ اوپک تیل کی پیداوار میں کم کرکے تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دوہزآر چودہ میں دنیا میں تیل کی مانگ اکانوے ملین ایک لاکھ بیرل تھی جس میں سے غیر اوپیک ملکوں نے پچپن ملین نو لاکھ بیرل تیل کی پیداوار کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس میں بانوے ملین تین لاکھ بیرل تیل کی پیداوار ہوگي اور اس میں سے غیر اوپیک ملکوں کا حصہ ستاون ملین تین لاکھ بیرول ہوگا۔ موجودہ حالات میں بعض ماہرین کا کہنا ہےکہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ زیادہ دن نہیں چلے گا۔ ماہرین کے بقول تیل کی قیمت نوے ڈالر فی بیرل ہوجائے گي تاکہ سرمایہ کاری جاری رہے۔ عالمی اقتصادی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیل پیدا کرنے والے ملکوں کو فی بیرل سو ڈالر قیمت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح تیل پیدا کرنے والے بڑے ملکوں کو بھی اپنے بجٹ کو متوازن کرنے کےلئے اسی قیمت کی ضرورت ہے۔

.......

/169